جاپان (جاپانی:日本،
جاپان ابھرتے ہوئے سورج کی سرزمین
نیپون،نیہون، یعنی سورج کا سرچشمہ)
| اکی ہیٹو جاپان کے بادشاہ |
چڑھتے سورج کى سرزمین مشرقى ایشیامیں واقع ہے!برآعظم ایشیا کے انتہاى مشرق میں جزیروں کے ایک لمبے سلسلے پر مشتمل ہے جو کہ شمال سے جنوب کی طرف پہیلا ہوا ہے۔
جاپان تقریبا 3000 سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے۔انتہاى شمالى جزیرہ ہوقایدو کہلواتا ہے اس کے بعد ہنشو پہرشیکوک پہرکیوشو اور اکیناوا ہے جاپان کى47 ڈویزن (کین) ہیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں یہ فہرست شمال سے شروع کى گئ ہے ـ
ہوکائدو– آومورى– ایواتے– میاگی– آکیتا– یاماگاتا– فوکوشیما– ایباراکى– توچیگى– گونما– سایتاما– چی با– توکیو یا ٹوکیو– کاناگاوا– نى گاتا– تویاما– اى شى کاوا– فوکوى– یاماناشى– ناگانو– گیفو– شی زواوکا– آی چى– می اے– شیگا– کیوتو– اوساکا– ہیوگو– نارا– واکایاما– تو توری– شیمانے– اوکایاما– ہیروشیما– یاماگوچى– توکوشیما– کاگاوا– اے ہیمے– کوچى– فوکواوکا– ساگا– ناگاساکى– کوماموتو– اویتا– میازاکی– کاگوشیما– اوکی ناوا– ان انتظامی کینوں کے علاوه جاپان کے دو بڑے شہرهیںاوساکااور ٹوکیو اوساکا کو اوساکا فو اور ٹوکیو کو ٹوکیو دو کی انتظامی تقسیم کے طور پر لیا جاتا ہے ـ
جاپان اس کےعلاوہ دس علاقوں میں بہى تقسیم ہے ہر علاقے کا ایک نام ہے جو کہ ایک یا ذیادہ کین کا مجموعہ ہوتا ہے ان علاقوں کے نام شمال سے جنوب کى طرف کچہ اس طرح ہیں ہوکائدو– توہوکو– ہوکوریکو– کانتو– چوبو– کین کى – چوگوکو – شیکوکو - کیوشو - ریوکیو۔ ملک کا تقریبا 3 فیصد رقبہ پہاڑوں پر مشتعمل ہے یہ ہر بڑے جزیرے پرسلسلہ وار پھیلے ہوۓ ہیں !جبکہ ہموار سطح محدود ہے! ملک کى سب سے اونچا پہاڑ فیوجی (Fuji) سان (سان ، اشخاص کو تعظیم سے بلانے کے لیے،مخصوص حالات میں پہاڑ کے لفظ کو سان کے طور پربھی بولا جاتا ہے) ہے جو کہ سطح سمندر سے 3776میٹر بلند ہے جاپان ایک اتش فشانى علاقے میں واقع ہے اس لیے یہاں زلزلے بہت آتے ہیں جو کہ سمندر میں اٹہنے والى بڑى لہروں تسنامی (ت تقریبا ناپید کرکے سونامی بولا جاسکتا ہے) کا باعث بہى بنتے ہیں آتش فشاں کى وجہ سے یہاں گرم پانى کے چشمے اونسین بہت پاۓ جاتے ہیں جو کہ جاپان کے سب سے پسندیدہ تفریحى مقامات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
ہوکائدو– آومورى– ایواتے– میاگی– آکیتا– یاماگاتا– فوکوشیما– ایباراکى– توچیگى– گونما– سایتاما– چی با– توکیو یا ٹوکیو– کاناگاوا– نى گاتا– تویاما– اى شى کاوا– فوکوى– یاماناشى– ناگانو– گیفو– شی زواوکا– آی چى– می اے– شیگا– کیوتو– اوساکا– ہیوگو– نارا– واکایاما– تو توری– شیمانے– اوکایاما– ہیروشیما– یاماگوچى– توکوشیما– کاگاوا– اے ہیمے– کوچى– فوکواوکا– ساگا– ناگاساکى– کوماموتو– اویتا– میازاکی– کاگوشیما– اوکی ناوا– ان انتظامی کینوں کے علاوه جاپان کے دو بڑے شہرهیںاوساکااور ٹوکیو اوساکا کو اوساکا فو اور ٹوکیو کو ٹوکیو دو کی انتظامی تقسیم کے طور پر لیا جاتا ہے ـ
جاپان اس کےعلاوہ دس علاقوں میں بہى تقسیم ہے ہر علاقے کا ایک نام ہے جو کہ ایک یا ذیادہ کین کا مجموعہ ہوتا ہے ان علاقوں کے نام شمال سے جنوب کى طرف کچہ اس طرح ہیں ہوکائدو– توہوکو– ہوکوریکو– کانتو– چوبو– کین کى – چوگوکو – شیکوکو - کیوشو - ریوکیو۔ ملک کا تقریبا 3 فیصد رقبہ پہاڑوں پر مشتعمل ہے یہ ہر بڑے جزیرے پرسلسلہ وار پھیلے ہوۓ ہیں !جبکہ ہموار سطح محدود ہے! ملک کى سب سے اونچا پہاڑ فیوجی (Fuji) سان (سان ، اشخاص کو تعظیم سے بلانے کے لیے،مخصوص حالات میں پہاڑ کے لفظ کو سان کے طور پربھی بولا جاتا ہے) ہے جو کہ سطح سمندر سے 3776میٹر بلند ہے جاپان ایک اتش فشانى علاقے میں واقع ہے اس لیے یہاں زلزلے بہت آتے ہیں جو کہ سمندر میں اٹہنے والى بڑى لہروں تسنامی (ت تقریبا ناپید کرکے سونامی بولا جاسکتا ہے) کا باعث بہى بنتے ہیں آتش فشاں کى وجہ سے یہاں گرم پانى کے چشمے اونسین بہت پاۓ جاتے ہیں جو کہ جاپان کے سب سے پسندیدہ تفریحى مقامات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔